Wednesday, August 27, 2025

غزل

 زمین کے خداؤں سے کیوں اُلجھتا ہوں
نہ وہ ہیں آج تک بدلے نہ میں بدلتا ہوں
 
فرشتے زندہ نہ مجھ کو اُٹھا لے جائیں
گھر سے اس لئے باہر کم نکلتا ہوں
 
خیال و خواب کی وادی کا مُسافر ہوں
حقیقتوں کی ہر ایک راہ میں بھٹکتا ہوں
 
مجھ کو کیوں یہ غم ہے اگر سارا شہر جلتا ہے
چراغ بن کر میں تو اپنی ہی جھونپڑی میں جلتا ہو
 
میں اوروں سے انصاف کیا مانگوں
میں تو کئی بار اپنی  گواہی بدلتا ہوں
 
گر اُسے کوئی غم ہے تو بس یہی اسجد
کہ اُس زمانے میں بھی سچی بات کرتا ہوں

Tuesday, August 19, 2025

Restoring Social Balance: Who Holds the Responsibility?

Pakistan’s Army Chief admits the nation was more balanced before 1979, but history shows it was the state’s own policies—military takeovers, political engineering, and the weaponization of religion—that fractured society. The real test now is whether those who caused the imbalance have the courage to correct it.

In recent weeks, Pakistan’s Army Chief, General Asim Munir, has publicly acknowledged on more than one occasion that Pakistani society, prior to 1979, was relatively balanced. Despite differences of opinion, tolerance was still a defining feature of that era. But in the years that followed, religious extremism, political instability, and growing intolerance deeply fractured the social fabric.

This admission is important in itself, but it also raises a critical question: who bears responsibility for this decline? A glance at history makes it evident that since the military intervention of July 1977, supreme authority has rarely, if ever, been handed over fully to elected representatives. Most major national and international decisions have instead been shaped by the priorities of the military establishment rather than the public mandate.

During General Zia-ul-Haq’s regime, religious elements were deliberately incorporated into state policies. Under the banner of the Afghan Jihad, religious groups were provided with military training, financial resources, and official patronage. In subsequent decades, policies such as “strategic depth,” the distinction between “good Taliban” and “bad Taliban,” and the use of religion as a weapon against the state’s own citizens inflicted irreparable damage on Pakistani society.

It follows, then, that those who played the central role in this disruption now bear the moral and national responsibility to reassess their policies. Mere acknowledgment of past mistakes is not enough; what is urgently needed are concrete steps to guide the nation back toward a balanced, peaceful, and healthy social order.

The Way Forward: Some Essential Measures

1.    State Transparency and Public Representation: All major national decisions must be taken by elected representatives through parliament, not by forces operating from behind the scenes.

2.    Separating Religion from Politics: Religion should no longer be used as an instrument of political engineering or power struggles. Matters of faith must remain a personal domain.

3.    Educational Reform: Curricula must be redesigned to promote tolerance, diversity, and critical thinking so that future generations embrace dialogue rather than extremism.

4.    A Clear Policy on Armed Groups: The distinction between “good” and “bad” militants must end. Without a uniform approach to militancy, state authority will remain compromised.

5.    Democratic Continuity: The strength of Pakistan’s social balance lies in the continuity of the democratic process and the supremacy of constitutional institutions. All state organs, including the military, must operate strictly within their constitutional boundaries.

Pakistan was once known for its balance and tolerance. If we truly have the courage to learn from our mistakes, that balance can indeed be restored. But this will only happen if the centers of power change their priorities and genuinely recognize the people’s mandate as the ultimate source of authority.

Otherwise, history will be compelled to record that those entrusted with preserving balance were, in fact, the very architects of its undoing.

By: Asjad Bukhari



معاشرتی توازن کی بحالی: ذمہ داری کس کی ہے؟

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے حالیہ دنوں میں ایک سے زائد مرتبہ یہ اعتراف کیا ہے کہ 1979 سے پہلے کا پاکستانی معاشرہ خاصا متوازن تھا۔ اُس دور میں اختلافِ رائے کے باوجود برداشت کا عنصر غالب تھا، لیکن اس کے بعد مذہبی شدت پسندی، سیاسی انتشار اور عدم برداشت نے معاشرتی ڈھانچے کو بری طرح مجروح کر دیا۔

یہ اعتراف اپنی جگہ اہم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس انحطاط کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ جولائی 1977 کی فوجی مداخلت کے بعد سے اقتدارِ اعلیٰ کبھی بھی مکمل طور پر عوامی نمائندوں کے سپرد نہیں کیا گیا۔ بڑے قومی و بین الاقوامی فیصلے اکثر عوامی مینڈیٹ کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات کے مطابق کیے گئے۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں ریاستی پالیسیوں میں مذہبی عناصر کو باقاعدہ داخل کیا گیا۔ افغان جہاد کے نام پر مذہبی گروہوں کو عسکری تربیت، مالی وسائل اور سرکاری سرپرستی فراہم کی گئی۔ بعد کے برسوں میں "اسٹریٹجک ڈیپتھ" کی پالیسی، "گڈ طالبان، بیڈ طالبان" کی تفریق، اور مذہب کو اپنے ہی شہریوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنے جیسے اقدامات نے پاکستانی معاشرے میں ایسی دراڑیں ڈال دیں جو آج بھی بھرنے کا نام نہیں لیتیں۔

یقیناً وہی ہاتھ جو اس بگاڑ میں شریک رہے ہیں، اب ان پر یہ اخلاقی اور قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ محض ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے قوم کو دوبارہ ایک متوازن اور پُرامن راہ پر لانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

آگے بڑھنے کے لیے چند ناگزیر اقدامات

ریاستی شفافیت اور عوامی نمائندگی

تمام قومی فیصلے عوامی نمائندوں اور پارلیمان کے ذریعے ہوں، پسِ پردہ قوتوں کے ذریعے نہیں۔

مذہب کو سیاست سے الگ کرنا
مذہب کو طاقت کے کھیل یا سیاسی انجینئرنگ کا ذریعہ بنانے کی روش ترک کی جائے۔ عقیدے کو صرف فرد کا ذاتی معاملہ سمجھا جائے۔

تعلیمی اصلاحات
نصابِ تعلیم میں برداشت، تنوع اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جائے تاکہ نئی نسل شدت پسندی کے بجائے مکالمے کی روایت اپنائے۔

مسلح گروہوں کے خلاف غیر مبہم پالیسی
گڈ اور بیڈ عسکریت پسندوں کی تقسیم ختم کیے بغیر ریاستی رٹ قائم نہیں ہو سکتی۔ ہر قسم کی عسکریت پسندی کے خلاف یکساں حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

جمہوریت کا تسلسل
سیاسی عمل میں تسلسل اور آئینی اداروں کی بالادستی ہی معاشرتی توازن کی ضمانت ہے۔ فوج سمیت تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کردار ادا کریں۔

پاکستانی معاشرہ ماضی میں توازن اور رواداری کی مثال رہا ہے۔ اگر ہم نے اپنی غلطیوں سے سچ مچ سیکھنے کا حوصلہ پیدا کیا تو یہ توازن دوبارہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب طاقت کے مراکز اپنی ترجیحات کو بدلیں اور عوامی
مینڈیٹ کو اصل قوتِ فیصلہ تسلیم کریں۔

تحریر: اسجد بخاری




ورنہ تاریخ یہ لکھنے پر مجبور ہوگی کہ جنہیں توازن قائم رکھنا تھا، وہی اس بگاڑ کے سب سے بڑے ذمہ دار ثابت ہوئے۔ 

Tuesday, April 22, 2025

‏ترنگڑ: بچپن، صحن اور سمندر

 ‏گرمیوں کی راتوں میں کھلے آسمان تلے سونا ایک الگ ہی لطف رکھتا تھا۔ بچپن کے دنوں میں، جب ہم صحن میں چارپائیاں بچھا کر لیٹتے، تو سونے سے پہلے تاروں بھرے آسمان کو تکتے رہنا ایک معمول تھا۔ اندھیری رات کی خاموشی میں سب سے پہلے ہماری نظریں اُن تین ستاروں کو تلاش کرتیں، جو ایک سیدھی لکیر میں، یکساں فاصلے پر جگمگاتے تھے۔ سرائیکی میں ہم انہیں “ترنگڑ” کہتے تھے۔ ترنگڑ—یعنی تین ایک ساتھ۔ یہ لفظ آج بھی بچپن کی یادوں میں جگمگاتا ہے، بالکل اُن ستاروں کی طرح۔

‏یہی لفظ ہم سکول میں بھی استعمال کرتے تھے۔ جب بھی کوئی تین دوستوں کا گہرا ساتھ ہوتا، تو انہیں بھی “ترنگڑ” کہہ کر پکارا جاتا تھا۔
‏حال ہی میں، ایک اندھیری رات کو سمندر کے کنارے بیٹھا آسمان کی وسعتوں میں گم تھا کہ اچانک نظریں پھر سے “ترنگڑ” کو تلاشنے لگیں۔ اور جب وہی تین ستارے ویسے ہی چمکتے ہوئے دکھائی دیے، تو لمحہ بھر کو جیسے وقت تھم سا گیا۔ ذہن اچانک ماضی کے اُس صحن میں پہنچ گیا، جہاں بچپن کی معصوم آنکھیں انہی ستاروں میں اپنی کہانیاں تلاش کیا کرتی تھیں۔
‏یہ لمحہ محض ایک یاد نہیں تھا - بلکہ بچپن، ماضی، اور اپنی زمین و ثقافت سے جڑنے کا ایک خاموش وسیلہ بن گیا تھا۔
‏یادیں بھی کبھی کبھی ستاروں کی طرح چمک اٹھتی ہیں - بس ہمیں نظر اٹھا کر دیکھنے کی دیر ہوتی ہے۔
‏(یہ تصویر انہی لمحوں کی ہے)


Thursday, January 16, 2025

دین آدمیت - جوش ملیح آبادی

دین آدمیت (جوش ملیح آبادی)

 

جوش ملیح آبادی کی طویل نظم “دین آدمیت” سے منتخب اشعار

 

جب کبھی بھولے سے اپنے ہوش میں ہوتا ہوں میں

دیر تک بھٹکے ہوئے انسان پر روتا ہوں میں

ایشیا والو! یہ آخر کیا خدا کی مار ہے

کل جو گھٹی پی تھی اس پر آج تک اصرار ہے

مسلک اجداد سے وابستگی ایمان ہے

یہ فقط تقلید کے سرسام کا ہذیان ہے

یہ مسلماں ہے، وہ ہندو، یہ مسیحی، وہ یہود

اس پہ یہ پابندیاں ہیں، اور اس پر یہ قیود

شیخ و پنڈت نے بھی کیا احمق بنایا ہے ہمیں

چھوٹے چھوٹے تنگ خانوں میں بٹھایا ہے ہمیں

کوئی اس ظلمت میں صورت ہی نہیں ہے نور کی

مہر ہر دل پر لگی ہے اک نہ اک دستور کی

قابل عبرت ہے یہ محدودیت انسان کی

چٹھیاں چپکی ہوئی ہیں مختلف ادیان کی

پھر رہا ہے آدمی، بھولا ہوا، بھٹکا ہوا

اک نہ اک “لیبل” ہر اک ماتھے پہ ہے لٹکا ہو

خوردنی اشیأ کا بھی یاں اک نہ اک آئین ہے

آم اگر دیندار ہے، تو سنترا بے دین ہے

کیا کرے ہندوستان اللہ کی ہے یہ بھی دین

چائے ہندو، دودھ مسلم، ناریل سکھ، بیر جین

اپنے ہم جنسوں کے کینے سے بھلا کیا فائدہ

ٹکڑے ٹکڑے ہوکے جینے سے بھلا کیا فائدہ

دین کیا ہے، خوف دوزخ، حرص جنت کے سوا

رسم تقویٰ کچھ نہیں جبن و تجارت کے سوا

سینکڑوں حوروں کا ہر نیکی پہ ہے ان کو یقین

سود لینے میں “خدا” سے بھی یہ شرماتے نہیں

بند پانی سے انہیں کیا آسکے بوئے فساد

یہ تو ہیں شخصی خدا کے بندگان خانہ زاد

ان کو اُس اصلی خدا سے دور کی نسبت نہیں

جس کے قبضہ میں زماں ہے، جس کے قدموں پر زمیں

آج تک پہونچی نہیں جس اوج تک چشم خیال

ایک نامعلوم قوت، ایک نادیدہ جلال

جس کا ہر تارا ہے مصحف، جس کا ہر ذرہ کتاب

جس کے دفتر کی ہے زریں مُہر قرص آفتاب

اس کی کوئی ابتدا ہے، اور نہ کوئی انتہا

لیکن ان ارباب مذہب کا نرالا ہے “خدا

وہ خدا جو آدمی سے چاہتا ہے بندگی

تشنگی جس کو بہت ہے خوشنما الفاظ کی

فاتحہ کا نان حلوہ، آئے دن کھاتا ہے جو

انگلیوں پر روز اپنا نام گنواتا ہے جو

سرنگوں رہتا ہے جو اہل فتن کے سامنے

جس کی کچھ چلتی نہیں ہے اہرمن کے سامنے

مجھ کو پوجو مجھ کو چاہو کی صدا دیتا ہے جو

جو نہ چاہے، اس کو دوزخ کی سزا دیتا ہے جو

حکم ہے جس کا کہ یوں انگلی ہلانا چاہیے

جب جماہی آئے تو چٹکی بجانا چاہیے

مر کے جلنا، یا کسی دریا میں بہنا چاہیے

چھینک جب آئے تو معا “الحمد” کہنا چاہیے

جو، اگر یوں خم نہ ہو گردن، تو کرتا ہے بھسم

یوں جبیں کو ٹیک دو، تو مائل جود و کرم

جس کے آگے رقص کرنا، گنگنانا ہے حرام

جس کے آگے قہقہہ کیا، مسکرانا ہے حرام

جس کے آگے کانپنا، آنسو بہانا ہے ثواب

جس کے آگے سر جھکانا گڑگڑانا ہے ثواب

مست ہوتا ہے جو یوں انسان کی تحسین پر

پھن اُٹھا کر جھومتا ہے ناگ جیسے بین پر

فطرت انسان کا خالق ہوکے بھی جو صبح شام

بے خطا انسان سے لیتا ہے کیا کیا انتقام

گاہ آتا ہے یہاں طوفان پر ہوکر سوار

گاہ غصے میں ہلاتا ہے زمیں کو بار بار

جس نے لاکھوں راہبر بھیجے ہدایت کے لئے

روند ڈالا جس نے اس کثرت کو وحدت کے لئے

خون گو سو بار اُس کے آستاں پر بہہ گیا

پھر بھی جو اپنے مشن میں فیل ہوکر رہ گیا

چار دن جو شاد ہے، اور چار دن ناشاد ہے

یہ خدا تو آدمی کے ذہن کی ایجاد ہے

سخت حیراں ہوں، یہ کیسا وہم کا طوفان ہے

اے عزیزو، یہ “خدا” کے بھیس میں “انسان” ہے

مدتیں گزریں کہ عقل انجمن مدقوق ہے

دوستو، ایسا خدا خالق نہیں، مخلوق ہے

 

اُٹھ کھڑے ہوں، آؤ تکمیل عبادت کے لئے

اک نیا نقشہ بنائیں آدمیت کے لئے

آؤ محفل میں جلائیں بھی بصد شان فراغ

نوع انسانی کی مجموعی اخوت کا چراغ

اور کچھ حاجت نہیں ہے دوستی کے واسطے

آدمی ہونا ہی کافی ہے، آدمی کے واسطے

آؤ وہ صورت نکالیں جس کے اندر جان ہو

آدمیت دین ہو، انسانیت ایمان ہو

میں شراب وہم آبائی کا متوالا نہیں

آدمیت سے کوئی شے دہر میں بالا نہیں

(جوش ملیح آبادی)



Monday, December 9, 2024

شام پر باغیوں کا قبضہ اور بعث پارٹی کا خاتمہ


پاکستان کی اسلامسٹ سُنی ملائیت شام کی خانہ جنگی اور اب باغیوں کے مکمل کنٹرول کو صرف شیعہ سُنی تنازعہ کی نظر سے دیکھ رہی ہے، جبکہ اسکے پیچھے عوامل اور اثرات فرقہ واریت سے کہیں زیادہ ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کے حافظ الاسد کی بعث پارٹی اور پھر بشار الاسد ڈیکٹیٹر تھے، جنہوں نے دیگر عرب حکمرانوں کی طرح اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ نہایت سختی اور ظلم کا رویہ رکھا، عراق میں صدام، مصر میں انوارالسادات /حُسنی مبارک، سعودی عرب اور گلف ریاستوں کے امیر، سب ہی اس معاملے میں نہلے پہ دہلا رہے۔ حافظ الاسد کا قائم کردہ نظام ڈیکٹیٹرشپ ضرور تھا لیکن خانہ جنگی سے پہلے کا شام کی حکومت کا معاشی پروگرام نیم سوشلسٹ تھا- اس میں عام آدمی کے لئے ریاست کی جانب سے کئی بنیادی ضروریات پہنچانے کا بدوبست بھی موجود تھا۔ مشرق وسطی کے دیگر ممالک کے برعکس شام کے اقتصادی وسائل بہت کم ہیں، لیکن بعث پارٹی کی حکومت کے انتظام کا جائزہ لینے پر معلوم پڑتا تھا کے انہوں نے معاشی وسائل کی تقسیم کا قدرے بہتر بندوبست کر رکھا تھا۔ گوکہ حافظ الاسد شیعہ فرقہ علوی سے تعلق رکھتے تھے لیکن حکومتی اور ریاستی معاملات میں بڑے پیمانے پر فرقہ کی بنیاد پر تعصب نہیں تھا۔

علوی فرقہ اس وقت موضوع بحث نہیں ہے لیکن مختصرا بتا دوں کے شام میں علوی اقلیت کو دیگر مسلمانوں کی جانب سے بہت لبرل یا سیکولر کہا اور سمجھا جاتا ہے، اور اسی بنیاد پر سُنی مسلک کے مذہبی لوگ ان پر شدید اعتراضات بھی کرتے ہیں۔  علویوں کو نصیریہ بھی کہا جاتا تھا، اس کا آغاز نویں اور 10ویں صدی میں ہوا تھا۔ گوکہ حافظ الاسد علوی تھے اور بعث پارٹی پر انکا کنٹرول ضرور تھا لیکن بعث پارٹی ایک عرب نیشنلسٹ  اور سوشلسٹ پارٹی رہی یہ علوی فرقہ کی نمائندہ نہیں تھی بلکہ جس طرح شام میں اکثریت سُنیوں کی ہے، بعث پارٹی میں بھی سُنی عوام کی کثیر تعداد ہی ممبر رہی ہے۔ اور 2016 میں خانہ جنگی کے دوران تو کچھ علوی دھڑے کے رہنماؤں نے ایک انتہائی غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اسد حکومت سے اعلانیہ دوری بھی اختیار کی تھی۔ لیکن دوسری طرف شام میں بعث پارٹی کے سیاسی مخالف اور خاص طور پر اخون المسلمین قسم کے اسلامسٹ نظریات کے لوگ عوام کو احساس دلاتے رہتے تھے کے یہ سُنی اکثریت کا ملک ہے اور علوی حکمران کو ہٹا کر اسکو سُنی اسلامی ریاست بنانا ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔ 

جس طرح ابتدا میں یاسر عرفات کی الفتح کے مقابل اسرائیل نے حماس کو مضبوط کیا بلکل اسی طرح شام میں بھی انہوں نے اسد حکومت کے خلاف اسلامسٹوں کو سپورٹ کیا۔ اسکی بنیادی وجہ یہ رہی کے شام کی بعث پارٹی اسد خاندان کی زیر قیادت روس کی حلیف ہونے کے ساتھ ساتھ فلسطین کی آزادی کے اپنے موقف پر قائم تھی۔ اسی سبب امریکہ اور اسرائیل شام سے کبھی خوش نہیں تھے۔ 2010 میں شام میں کئی برسوں کی خشک سالی نے کسانوں کو معاشی طور پر بہت پریشان کیا۔ اوپر سے طویل ڈیکٹیٹرشپ سے تنگ عوام "عرب سپرنگ" کے زیر اثر بڑی تعداد میں بشار الاسد حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے جنکو حکومت نے نہایت سفاکی سے کچلنے کی کوشش کی جسکے نتیجہ میں سعودی عرب/امریکہ/اسرائیل/ترکی کے وسائل سے بہت سے مسلح باغی گروہ ملک میں وجود میں آئے جنکی اکثریت بعد میں دائش کے جھنڈے تلے متحد ہوئی اور جنکے ظلم کی داستانیں سبکو معلوم ہیں۔ اس طویل اور خونی خانہ جنگی میں ترکی سمیت ہر ملک اپنے سیاسی مفادات کے زیراثر مختلف باغی گروہوں کو سپورٹ کرتا رہا۔ اسی طرح روس اور ایران اپنے علاقائی مفادات کے تحفظ میں بشار الاسد کی بقا کی جنگ لڑتے رہے۔ حالیہ مہینوں میں حزب اللہ اور حماس کے خلاف اسرائیل کی کامیابیوں کے بعد ایران بہت کمزور پڑ گیا، ادھر روس کی ساری توجہ یوکرین کی طرف لگ گئی۔ جس کے سبب ان ممالک کی جانب سے بشار الاسد کو ملنے والی عسکری سپورٹ کمزور پڑگئی اور پھر شمال سے ترکی کے حمایت یافتہ گروہ اور دوسری طرف سعودی، امریکی، اسرائیلئ حمایت یافتہ باغی گروہ القائدہ اور دائش کے سابقہ کمانڈر ابو محمد الجولانی کی قیادت میں متحد ہوکر بشار الاسد کی حکومت گرانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

شام میں تبدیلی وسیع تر بین الاقوامی تبدیلیوں کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ یوکرین کے تنازعے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، جب کہ روس شام میں اپنے فوجی اڈے خالی کر رہا ہے۔ یہ تبدیلیاں عالمی ترجیحات کی از سر نو ترتیب کی نشاندہی کرتی ہیں۔

اس سارے تنازعہ کو پاکستان میں، مذہبی عناصر طالبان کے تحت افغانستان کے "اسلامی احیا" کے تسلسل سے تعبیر کررہے ہیں، جو اب شام تک پھیلا ہوا ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ ایک آمر کی گرفت سے نکلنے کے بعد، کیا شام لیبیا اور افغانستان کی طرح مزید گہرے انتشار کی طرف جائے گا، یا وہ ایک نارمل مستحکم نظام حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا؟ صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔

Rebellion Takes Over Syria and the End of the Ba'ath Party



Pakistan's Sunni Islamist clergy views the Syrian civil war and the rebels' takeover through the lens of a Shia-Sunni conflict. However, the underlying causes and implications go far beyond sectarianism.

There is no denying that Hafez al-Assad's Ba'ath Party and later Bashar al-Assad's regime were dictatorial, employing harsh and oppressive measures against political opponents. This is much like other Arab rulers—Saddam in Iraq, Anwar Sadat/Hosni Mubarak in Egypt, and the monarchs of Saudi Arabia and the Gulf states. Despite being a dictator, Hafez al-Assad's pre-civil war Syria operated under a semi-socialist economic system, which provided basic necessities to the common people. Syria, unlike many Middle Eastern countries, had limited economic resources. Still, the Ba'ath Party managed to maintain a relatively equitable system of economic justice. While Assad was an Alawite—a Shia sect—there was no widespread sectarian bias in governance.

The Role of the Alawite Sect

The Alawite sect, often labeled liberal or secular by other Muslims in Syria, has faced criticism from Sunni clerics. Historically referred to as the Nusairis, the Alawite sect emerged in the 9th and 10th centuries. Although Hafez al-Assad was associated with Alawites, the party itself was a pan-Arab nationalist and socialist entity. Most of its members were Sunni, reflecting Syria's Sunni majority. During the civil war in 2016, some Alawite leaders publicly distanced themselves from the Assad regime—an unprecedented move. Meanwhile, Assad's political opponents, particularly Islamist groups like the Muslim Brotherhood, continued to promote the idea that Syria, as a Sunni-majority nation, must be turned into a Sunni Islamic state.

External Influences and the Rise of Islamist Rebels

Similar to Israel's early support for Hamas as a counterweight to Yasser Arafat's Fatah, external forces backed Islamist factions against Assad's government. The Ba'ath Party's alignment with Russia and steadfast support for Palestinian liberation made Syria an adversary of the U.S. and Israel. Years of drought in the country devastated Syria's farmers, and public frustration with prolonged dictatorship culminated in mass protests during the "Arab Spring." Assad's brutal crackdown on dissent fueled the emergence of various armed rebel groups, heavily funded by Saudi Arabia, the U.S., Israel, and Turkey. Many of these groups later coalesced under ISIS, infamous for its atrocities.

Over the years, various nations supported different factions based on their political agendas, with Turkey, the U.S., Saudi Arabia, and Israel backing certain rebels, while Russia and Iran fought to preserve Assad's regime. However, recent geopolitical shifts have weakened Assad's allies. Israeli successes against Hezbollah and Hamas have diminished Iran's influence, while Russia's focus has shifted to Ukraine, reducing its military support for Assad. This has allowed Turkish-backed rebels and Saudi- and U.S.-supported factions, including former al-Qaeda commander Abu Mohammad al-Joulani, to unite and overthrow Assad's government.

International Implications

The conflict also reflects broader international dynamics. The U.S. appears to be retreating from the Ukraine conflict, while Russia is vacating its military bases in Syria. These shifts indicate a reorientation of global priorities.

Pakistan's Perspective

In Pakistan, religious hardliners interpret these developments as a continuation of Afghanistan's "Islamic revival" under the Taliban, now extending to Syria. However, the question remains: after escaping the grip of a brutal dictator, will Syria follow Libya and Afghanistan into deeper chaos, or will it manage to establish a stable governance system? The situation remains uncertain.

Saturday, June 8, 2024

ہاتھ سے بنی روٹی

 یہ ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی بھی ایک آرٹ ہے

آسمان یہ دیکھنے والی کائنات ہے

چاند، ستارے کہکشاں

سبہی کچھ ہی اس میں موجود ہے

گوندھی ہوئی ہے احساسات اور جذبات کی خوشبو اس میں

یہ زندگی ہے

خوش رہیں وہ تمام ہاتھ، جو یہ بناسکتے ہیں

 اور اپنے پیاروں کو کھلا سکتے ہیں

✌🏽اسجد✌🏽 Aug 16 2023





سجیلوں کی مملکت ہے


سجیلوں کی مملکت ہے

سجیلوں کی حکومت ہے

سجیلوں کے فیصلے ہیں

سجیلوں کی سلطنت میں

سیاسدان مہمان اداکار ہیں

سجیلوں کی ریاست میں

عوام کی گنتی کا شمار 

اگر دو اور دو ایک ہے

تو اس پر کیسا اعتراض

خاموشی سے کہو، میرا سلام 

اے وطن کے سجیلے جوان

Aug 06 2023



Tuesday, March 19, 2024

ڈی این اے ٹیسٹنگ افسانہ اور حقیقت

آجکل ڈی این اے ٹیسٹنگ کا رواج عام ہورہا ہے لیکن اسکے رزلٹ کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اس بلاگ میں اس کی کچھ وضاحت کرنے کی کوشش کرتا ہوں

ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریے کسی کے شجرہ نسب  کے بارے میں قیمتی معلومات مل سکتی ہیں، لیکن درستگی کی سطح پر کئی عوامل اثرانداز ہو سکتے ہیں- جیسے ٹیسٹ کی قسم اور ٹیسٹنگ کمپنی کا مخصوص جینیاتی ڈیٹا بیس اور سب سے اہم اس فرد کے اجداد کا ماضی سے آج تک کس تعداد میں دوسری انسانی نسلوں سے ملاپ ہوا ہوگا- جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ایسے ٹیسٹ زیادہ پیچیدہ ہیں- جسکے لیے ان باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہئیے

جینیاتی تنوع: جنوبی ایشیاء جینیاتی طور پر ناقابل یقین حد تک متنوع ہے-  جس کا سبب اس خطۂ میں بسنے والے انسانی گروہوں کی دنیا کے مختلف علاقوں سے برصغیر میں صدیوں کی ہجرت اور آپس کے تعلقات اور ملاپ ہے۔ صدیوں پر محیط اس ہجرت کے نتیجے کے طور پر، جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا جینیاتی نسب پیچیدہ اور متنوع آبائی شراکت کی عکاسی کر سکتا ہے۔ جس کے سبب حتمی نتیجہ نکلنا پیچیدہ اور کئی صورتوں میں ممکن نہیں ہے

ٹیسٹنگ کمپنی کا ڈیٹا بیس: نسب کے اندازے کی درستگی کا انحصار ٹیسٹنگ کمپنی کے ڈیٹا بیس میں شامل حوالہ آبادی پر بھی منحصر ہے۔ کچھ کمپنیوں کے پاس جنوبی ایشیا کی آبادی پر زیادہ وسیع ڈیٹا بیس ہو سکتا، جب کہ کسی کے پاس محدود نمائندگی ہو سکتی ہے۔ ایک بڑا اور زیادہ متنوع ڈیٹا بیس عام طور پر بہتر یا درست نتائج کی طرف نشان دہی کر سکتا ہے

ڈی این اے ٹیسٹ کی اقسام: مختلف قسم کے ڈی این اے ٹیسٹ نسب کے بارے میں مختلف معلومات مہیا کر سکتے ہیں۔ آٹوسومل ڈی این اے ٹیسٹ  دونوں والدین سے وراثت میں ملنے والے جینیاتی مواد کی جانچ کرتے ہیں-  یہ عام طور پر نسب کی جانچ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم ایم ٹی ڈی این اے اور وائی ڈی این اے ٹیسٹ بالترتیب زچگی اور آبائی نسبوں کے بارے میں مخصوص معلومات فراہم کر سکتے ہیں

تاریخی سیاق و سباق: جنوبی ایشیا میں تاریخی نقل مکانی، تجارتی راستوں اور ثقافتی تبادلوں کو سمجھنے سے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کی درست تشریح میں مدد مل سکتی ہے۔ مثال کے طور پر آریاؤں، دراوڑیوں، یونانیوں، فارسیوں، عربوں، وسطی ایشیائیوں اور یورپیوں کی ہجرت نے خطے کے جینیاتی تنوع میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

حدود: نسب کے جاننے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کی حدود کو پہچاننا ضروری ہے۔ اگرچہ ڈی این اے جینیاتی ورثے کے بارے میں بصیرت فراہم کر سکتا ہے، لیکن یہ کسی کے شجرہ نسب یا ثقافتی شناخت کی مکمل تصویر فراہم نہیں کر سکتا۔ اسکا بڑا سبب یہ ہے کے جب ماضی میں مختلف انسانی نسلوں کا آپس میں ایک مخصوص تعداد سے زیادہ جینیاتی ملاپ ہو چکا ہو تو اجداد کے ڈی این اے کا  اثر کم یا کمزور ہو جانا ہے- جس کے سبب آج کے انسان کا ڈی این اے  آباؤ اجداد کو شناخت کرنے کے قابل نہیں رہتا

آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کے ڈی این اے ٹیسٹنگ کسی کے نسب کے بارے میں قیمتی اشارے پیش کر سکتی ہے اور افراد کو ان کے ورثے کو دریافت کرنے میں مدد کر سکتی ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ انکی حدود کو سمجھ کر نتائج تک پہنچیں، جس میں تاریخی اور نسباتی تحقیق کو ساتھ ملا کر جینیاتی نتائج کی تکمیل کسی حد
تک کی جا سکتی ہے 


DNA testing myth and reality:

DNA testing can provide valuable insights into one's ancestry and family tree, but the level of accuracy can vary depending on several factors, including the type of test taken and the specific genetic database used by the testing company.

It is more complicated for individuals from South Asia, following considerations should keep in mind:

Genetic Diversity: South Asia is incredibly diverse genetically, with populations that have been shaped by centuries of migrations, interactions, and intermixing. As a result, the genetic ancestry of individuals from South Asia can be complex and may reflect diverse ancestral contributions.

Testing Company Database: The accuracy of ancestry estimates depends on the reference populations included in the testing company's database. Some companies may have more extensive databases that include populations from South Asia, while others may have limited representation. A larger and more diverse database generally leads to more accurate results.

Type of DNA Test: Different types of DNA tests can provide different insights into ancestry. Autosomal DNA tests, which examine genetic material inherited from both parents, are commonly used for ancestry testing. However, mitochondrial DNA (mtDNA) and Y-chromosome DNA (Y-DNA) tests can provide specific information about maternal and paternal lineages, respectively.

Historical Context: Understanding historical migrations, trade routes, and cultural exchanges in South Asia can help interpret DNA test results accurately. For example, migrations of Indo-Aryans, Dravidians, Persians, Central Asians, and Europeans have all contributed to the genetic diversity of the region.

Limitations: It's important to recognize the limitations of DNA testing for ancestry. While DNA can provide insights into genetic heritage, it cannot provide a complete picture of one's family tree or cultural identity. Additionally, DNA testing may not be able to identify more recent ancestors beyond a certain number of generations due to genetic recombination and dilution over time.

Overall, DNA testing can offer valuable clues about one's ancestry and help individuals explore their heritage, but it's essential to approach the results with an understanding of their limitations and to complement genetic findings with historical and genealogical research.

فیض کا عشق حقیقی

فیض کا عشقِ حقیقی (اسجد بخاری - فروری ٢٠٢٦)   اسلامی تصوف کی فکری روایت میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی دو ایسے بنیادی تصورات ہیں جو صوفیانہ ش...