Tuesday, March 24, 2026

فیض کا عشق حقیقی

فیض کا عشقِ حقیقی

(اسجد بخاری - فروری ٢٠٢٦)

 

اسلامی تصوف کی فکری روایت میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی دو ایسے بنیادی تصورات ہیں جو صوفیانہ شعور کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ عشقِ مجازی سے مراد کسی انسان سے شدید لگاؤ اور والہانہ محبت ہے۔ اگرچہ یہ عشق ظاہری اور فانی ہوتا ہے، مگر صوفیانہ فکر میں اسے محض رد نہیں کیا جاتا۔ اس کے برعکس، یہی عشق ایک ایسے ابتدائی زینے کی حیثیت رکھتا ہے جو انسان کو اپنے خالق سے بے لوث، بے غرض اور ہمہ گیر محبت یعنی عشقِ حقیقی تک لے جاتا ہے، بشرطیکہ یہ محبت خود غرضی اور نفسانی خواہشات کی قید میں نہ ہو۔

صوفیانہ شعور میں جب عشق اپنی معراج کو پہنچتا ہے تو ذات، انا اور ذاتی خواہشات تحلیل ہونے لگتی ہیں، اور بندہ اپنے محبوبِ حقیقی میں فنا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عشقِ مجازی کو تربیتِ قلب کا پہلا مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔

وارث شاہ ہیر میں اسی حقیقت کی طرف یوں اشارہ کرتے ہیں:

 "وارث شاہ حقیقت دی لین لذت
پہلے چکھ کے لون مجازیاں دا"

 

اسی طرح بلھے شاہ مجازی سے حقیقی کے سفر کو انا کی شکست سے مشروط کرتے ہیں:

 

"بلھیا عشق اوہناں نوں لگدا اے،

جنہاں نوں آپ اپنی ذات دا بھرم ٹُٹّے"

 

(عشق اُسی کو نصیب ہوتا ہے جس کی اپنی انا ٹوٹ جائے)

 

وحدت الوجود کے تناظر میں عشقِ حقیقی کی ایک بلیغ اور سادہ تعبیر ہمیں خواجہ غلام فرید کی سرائیکی کافی میں ملتی ہے۔ وہ عشق کو کسی خارجی شے کے بجائے اپنی ہی ذات میں یوں جذب کر لیتے ہیں:

 

"میڈا عشق وی توں

میڈا یار وی توں

میڈا دین وی توں

ایمان وی توں

میڈا جسم وی توں

میڈی روح وی توں

میڈا قلب وی توں

جِند جان وی توں

میڈا ذکر وی توں

میڈا فکر وی توں

میڈا سانول مِٹھڑا شام سَلونا

من موہن جاناں وی توں

میڈا درم وی توں

میڈا بھرم وی توں"

 

یہ صوفیانہ روایت ہمیں مجازی سے حقیقی کے سفر کا ایک واضح نقشہ فراہم کرتی ہے۔ اب اگر ہم اسی تصور کو جدید اردو شاعری، بالخصوص فیض احمد فیض کے فکری و شعری تناظر میں دیکھیں، تو عشق ایک نئی جہت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔

فیض احمد فیض کا شعری سفر مجموعہ نقشِ فریادیسے شروع ہوتا ہے، جس کی ابتدا ان معروف اشعار سے ہوتی ہے:

 

"رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے

جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم

جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے"

 

یہ خالصتاً عشقِ مجازی کا نہایت لطیف اور جمالیاتی اظہار ہے۔ مگر فیض کے ہاں عشق ایک جگہ ٹھہر نہیں جاتا۔ معتبر سوانحی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایم اے او کالج امرتسر میں تدریسی فرائض کے دوران جب انہیں ذاتی سطح پر عشق کی ناکامی کا سامنا ہوا، تو یہ حادثہ ان کے باطن میں ایک بڑی فکری تبدیلی کا سبب بنا۔

ڈاکٹر ایوب مرزا اپنی تصنیف ہم کہ ٹھہرے اجنبی(صفحہ 378) میں اس واقعے کو یوں بیان کرتے ہیں:

 

"ڈاکٹر رشید جہاں کی نگاہ دوررس نے اس تنہا لیکچرار کو بھانپ لیا۔ پوچھا معاملہ کیا ہے؟ کسی کام کاج میں تیرا جی نہیں لگتا۔ جب فیض نے جواب میں تکلف کیا تو بلاتکلف بولیں: محبت میں ناکامی! اور فیض نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے مشورہ دیا، یہ حادثہ تمہاری ذات واحد کا بہت بڑا حادثہ ہوسکتا ہے۔ مگر یہ اتنا بڑا بھی نہیں کہ زندگی بے معنی ہوجائے۔  انہوں نے فیض کو ایک کتاب مطالعہ کے لئے دی اور پھر ملنے کے لئے کہا۔ بقول فیض انہوں نے اس کتاب کو پڑھا اور ان پر چودہ طبق روشن ہوچکے تھے۔ یہ کتاب تھی :

Communist Manifesto 

اور پھر فیض پکار اُٹھا:

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

نیا فیض جنم لے چکا تھا۔ اب فیض نئی منزلوں کا مسافر بن گیا۔ اور پھر :

 

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

جو کوئے یار سے نکلے، تو سوُےدار چلے"

 

یہ وہ موڑ تھا جہاں فیض کا عشق فرد سے نکل کر اجتماعیت کی طرف بڑھنے لگا۔ اب ان کا عشقِ مجازی بھی بدل گیا اور عشقِ حقیقی بھی خالق سے مخلوق، اور فرد سے سماج تک پھیل گیا۔

امرتسر کا تدریسی ماحول، ساتھی اساتذہ، مزدور سیاست اور سامراجی و سرمایہ دارانہ نظام پر کھلی بحث، فیض کے لیے نظریے اور شاعری کے اتصال کا نقطۂ آغاز بنی۔ ڈاکٹر سلیم اختر کے مطابق، فیض کی شاعری میں جو اجتماعی دکھنمایاں ہے، وہ اسی ماحول سے براہِ راست اخذ شدہ طبقاتی شعور کا نتیجہ ہے۔

یہاں فیض صوفیانہ روایت سے ایک نیا مکالمہ قائم کرتے ہیں۔ اشفاق احمد المعروف تلقین شاہ نے فیض کے مجموعہ کلام شامِ شہرِ یاراںکے پیش لفظ میں فیض کو ملامتی صوفی قرار دیا۔ مگر فیض خدا کو جنگلوں، غاروں یا صحراؤں میں تلاش نہیں کرتے؛ وہ اسے اس کی تخلیق یعنی انسان کے دکھ ، محرومی اور جدوجہد میں پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

فیض کے نزدیک انسان کے دکھ کا مداوا، اس پر مسلط جابرانہ نظام کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے وہ سماجی اور معاشی انصاف پر مبنی نظام کو اپنا عشقِ مجازی بناتے ہیں، جو دراصل عشقِ حقیقی یعنی انسان کی فلاح تک پہنچنے کا زینہ ہے۔

 

 نظم رقیب سے میں وہ اپنے روایتی عشقِ مجازی سے اجتماعی شعور کی طرف یوں قدم بڑھاتے ہیں:

 

"ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے

اتنے احسان کہ گنواں تو گنوا نہ سکوں

ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے

جُز ترے اور کو سمجھاوں تو سمجھا نہ سکوں

عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی

یاس و حرمان کے، دکھ درد کے معنی سیکھے

زیردستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا

سرد آہوں کے، رُخ درد کے معنی سیکھے

جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت

شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے

آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ

اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے"

 

اور پھر وہ اس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں وہ اعلان کرتے ہیں:

 

"ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے

جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے

اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ"

 

 

فیض کا عشق ناانصافی، جبر اور طبقاتی استحصال کے گہرے مشاہدے سے جنم لیتا ہے، مگر وہ کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں عشقِ حقیقی غزل کی جمالیات میں بھی سانس لیتا ہے:

 

"کس قدر ہوگا یہاں مہرو وفا کا ماتم

ہم تری یاد سے جس روز اُتر جائیں گے

فیض آتے ہیں رہ عشق میں جو سخت مقام

آنے والوں سے کہو ہم تو گذر جائیں گے"

 

"تری امید تیرا انتظار جب سے ہے

نہ شب کو دن سے شکایت، نہ دن کو شب سے ہے

کہاں گۓ شب فرقت کے جاگنے والے

ستارہ سحری ہم کلام کب سے ہے"  

 

فیض وہ عاشق ہے جو امید کا دامن نہیں چھوڑتا اور یاد رکھتا ہے کہ:

 

"بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے

فروغ گلشن و صوت ہزار کا موسم"

 

لیکن1971ء کے سانحۂ مشرقی پاکستان نے فیض کے اس عشق کو شدید زخم دیے۔ فوجی آپریشن، قتل و غارت اور انسانی المیے نے انہیں اندر تک ہلا دیا، اور وہ یوں چیخ اٹھے:

 

"سجے تو کیسے سجے قتل عام کا میلہ

کسے لبھائے گا میرے لہو کا واویلا

مرے نزار بدن میں لہو ھی کتنا ھے

چراغ ھو کوئی روشن نہ کوئی جام بھرے

نہ اس سے آگ ھی بھڑکے نہ اس سے پیاس بجھے

مرے فگار بدن میں لہو ھی کتنا ھے

مگر وہ زہر ہلاہل بھرا ھے نس نس میں

جسے بھی چھیدو ھر اک بوند قہر افعی ھے

ھر اک کشید ھے صدیوں کے درد وحسرت کی

ھر اک میں مہر بلب غیض و غم کی گرمی ھے

حذر کرو مرے تن سے یہ سم کا دریا ھے

حذر کرو کہ مرا تن وہ چوب صحرا ھے

جسے جلاؤ تو صحن چمن میں دہکیں گے

بجائے سرو و سمن میری ہڈیوں کے ببول

اسے بکھیرا تو دشت و دمن میں بکھرے گی

بجائے مشک صبا میری جان زار کی دھول

حذر کرو کہ مرا دل لہو کا پیاسا ھے"

 

سانحۂ مشرقی پاکستان ایسا تھا کہ تین برس بعد بھی، جب وہ ڈھاکہ گئے تو واپسی پر بول اٹھے:

 

"تھے بہت بےدرد لمحے ختم درد عشق کے

تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

ہم کہ ٹہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد"

 

اسی طرح امریکہ میں روزن برگ جوڑے کی پھانسی پر لکھی گئی نظم “ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے”، فیض کے دوسرے دور کے عشقِ مجازی، یعنی اشتراکی نظام کی ایک لازوال مثال ہے۔ یہ نظم قربانی، وفا اور انسان دوستی کی ایک بلند ترین شعری علامت ہے۔ فیض صاحب ان دنوں راولپنڈی سازش کیس کے الزام میں منٹگمری جیل میں قید تھے۔ جیل میں روزن برگ جوڑے کے خطوط پر مشتمل ایک کتاب ان تک پہنچی۔ وہ اس سانحے سے بے حد متاثر ہوئے کیونکہ ان دونوں میاں بیوی کو کمیونسٹ ہونے کی سزا دی گئی تھی ۔  

 

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم

دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے

تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم

نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے

تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی

تیری زلفوں کی مستی برستی رہی

تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی

جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم

ہم چلے آئے، لائے جہاں تک قدم

لب پہ حرفِ غزل، دل میں قندیل غم

اپنا غم تھا گواہی تیرے حسن کی

دیکھ قائم رہے اِس گواہی پہ ہم

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی

تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی

کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے

ہِجر کی قتل گاہوں سے سب جا مِلے

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے عَلم

اور نکلیں گے عشّاق کے قافلے

جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم

مختصر کر چلے درد کے فاصلے

کر چلے جِن کی خاطر جہاں گیر ہم

جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

 

فیض نے اپنی کتاب ’مہ و سال آشنائی‘ میں لکھا کہ ’ماسکو کی ایک محفل مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ سجاد ظہیر (بنے) کے بڑے کمرے میں سب لوگ جمع تھے۔ مجھ سے شعر سنانے کی فرمائش ہوئی تو میں نے روزن برگ والی نظم ’ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘ کچھ تمہید کے ساتھ سنائی اور اس کے بعد جب اس کا انگریزی ترجمہ ختم ہوا تو ایک صاحب جو کونے میں خاموش بیٹھے تھے، اچانک اٹھے اور آنکھوں پر رومال رکھ کر روتے ہوئے باہر چلے گئے۔‘

’کسی کی زبانی معلوم ہوا کہ یہ امریکہ کے مشہور ترقی پسند سیاسی مبصر اور مصنف البرٹ کاہن ہیں جو روزن برگ کے ذاتی دوست تھے اور آج کل اس جوڑے کے یتیم بچے انھی کی تحویل میں ہیں۔

 

بالآخر، فیض کا عشقِ حقیقی انسان ہے۔ اس انسان کی آزادی، وقار اور خوش حالی ہی ان کا آخری خواب ہے۔ اسی لیے ان کی شاعری دعا بھی ہے، احتجاج بھی، اور امید بھی۔

اختتام پران کے پنجابی گیت کی چند بند جس میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں- اور aفیض کے پورے فکری سفر کو ایک جمالیاتی اکائی میں سمیٹ دیتا ہے:

 

"درد نہ دسّاں گُھلدی جاوا

راز نہ کھولاں مُکدی جاواں

کِس نوں دل دے داغ وکھاواں

کِس در اگّے جھولی ڈھاواں

وے مَیں کِس دا دامن کھسا

کِدھرے نہ پیندیاں دسّاں

وے پردیسیا تیریاں

شام اُڈیکاں فجر اُڈیکاں

آکھیں تے ساری عمر اڈیکاں

آنڈ گوانڈی دیوے بلدے
ربّا ساڈا چانن گھلدے
جگ وَسدائے میں وی وساں
کدھرے نہ پیندیاں دسّاں
وے پردیسیا تیریاں"

 

 


 

 

Friday, January 9, 2026

یہ کیا اُٹھا لائے ہو

 "یہ کیا اُٹھا لائے ہو؟"


یہ کیا اُٹھا لائے ہو؟

یہ کس کو مسیحا بنائے ہو؟

جسے تم نے رہبر کا نام دیا

یہ ظلمت کہاں سے اُٹھا لائے ہو؟


جس خرابات کو تم مہاتما کہتے ہو،

جس دھویں کو تم سائباں سمجھتے ہو،

وہ نفرت کی موسلا دھار ہے

یہ “مہاتما” کیوں دل میں سجائے ہو؟


نہ اس میں خوشبو ہے، نہ چراغِ امید،

نہ درد کی سچائی، نہ آنکھوں کی نمی،

پھر کس دلیل سے سر پر سجائے ہو؟

یہ خرابات کیوں ذہن میں بٹھائے ہو؟


ایک ضدی لہجہ، ایک خالی نعرہ

یہ کس کو مسیحا بنائے ہو؟

ضد کو اصول کا نام دے کر

کس انا کو تخت پر بٹھائے ہو؟


سو پوچھتا ہوں پھر سے،

تہمت پرستی کی یہ گٹھڑی

اب تم ایمان بنائے ہو؟

کیوں اسے سینے سے لگا لائے ہو؟


جو خود کو مرکزِ کائنات سمجھے،

جو اختلاف کو دشمنی جانے،

وہ رہنما نہیں، انا کا قیدی ہے،

یہ سچ تم کیوں نہ جان پائے ہو؟

-----

اسجد بخاری

۹ جنوری ۲۰۲۶

Saturday, December 20, 2025

خدا کا وجود - مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان آج کا مباحثہ

خدا کا وجود - مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان آج کا مباحثہ
خدا کے وجود پر فلسفے، عقیدے اور منطق کی روشنی میں صدیوں سے بحث ہوتی آ رہی ہے اور اس موضوع پر بے شمار اہم کتب اور مکاتبِ فکر موجود ہیں۔ جدید علوم، سماجی ارتقاء اور سائنسی دریافتوں کے تناظر میں اس بحث کا جاری رہنا نہ صرف فکری طور پر مفید ہے بلکہ سننے اور پڑھنے والوں کو مختلف زاویوں سے سوچنے اور مخالف نقطۂ نظر کو برداشت کرنے کی تہذیب بھی سکھاتا ہے۔
تاہم اس پورے مباحثے میں ایک اہم سوال ایسا ہے جس پر مزید سنجیدہ گفتگو کی ضرورت محسوس ہوتی ہے:
اگر ہم خدا کے وجود کو تسلیم کر لیں، تو کیا وہ خدا لازماً کسی مخصوص مذہب کے عقیدے کا خدا ہی ہوگا؟
پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کائنات اور قدرت کے نظام میں جہاں انصاف اور رحم جیسی صفات واضح طور پر ہر جگہ کارفرما نظر نہیں آتیں، کیا یہ اوصاف خالق نے صرف انسانوں کے باہمی تعلق کے لیے متعین کیے ہیں؟
جب خدا کا مذہبی تصور زیرِ بحث آتا ہے تو لازماً اس کے ساتھ عملی زندگی، اخلاقیات اور انسانی رویّوں سے جڑے کئی موضوعات بھی گفتگو کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اس مباحثے کو سننے کے بعد میری رائے میں، مذہبی افراد سے خدا کے وجود پر گفتگو کرتے ہوئے مذہبی عقیدے کے خدا اور عملی زندگی سے اس کے تعلق کو مکمل طور پر بحث سے الگ رکھنا ایک حد تک غیر تسلی بخش محسوس ہوتا ہے۔
حالیہ مباحثے میں مفتی شمائل ندوی صاحب روایتی مباحثے کے اسلوب اور علمی تیاری کے ساتھ شریک ہوئے۔ انہوں نے اپنا موقف مؤثر انداز میں پیش کیا، جس سے وہ ایک مثبت تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ دوسری جانب جاوید اختر صاحب نے ریشنلسٹ زاویے سے گفتگو کی اور بنیادی سوال کو انسان کی عملی زندگی سے جوڑنے کی کوشش کی، جو میرے نزدیک ایک مناسب اور بامعنی طریقہ ہے۔
بہرحال، یہ ایک ایسی بحث ہے جو شاید کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو، اور اگر اسے اسی طرح مہذب، علمی اور احترام کے دائرے میں رہ کر جاری رکھا جائے تو یہ مفید ایک عمل ہے۔
اس موضوع پر میری رائے اس تصور کے زیادہ قریب ہے کہ کائنات کی تخلیق کے تناظر میں خود تخلیق کو ہی خالق سمجھنے سے بھی اس مسئلے کی کچھ گرہیں کھل سکتی ہیں۔ جی ہاں، میرا اشارہ وحدتُ الوجود کے تصور کی طرف ہے-
Link to the debate

https://youtu.be/2eX26jVaR_A?si=bJEAx6hmZ-GcQ1MH
 

Tuesday, December 16, 2025

مذہب، سیاست اور انتہاپسندی: ایک خود احتسابی اور نئی تعبیر کی ضرورت

شدت پسند گروہوں کے پاس محض مذہبی شناخت نہیں ہوتی بلکہ ایک منظم مذہبی نظریاتی فریم ورک بھی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم جس پُرآشوب عہد میں زندہ ہیں، اس میں انتہاپسندی کو بارہا مذہبی تعبیرات کے ذریعے اخلاقی اور فکری جواز فراہم کیا جاتا رہا ہے۔ اس رجحان کی نمایاں جڑیں افغان جہاد کے پس منظر میں ملتی ہیں، جہاں سرد جنگ کے دوران عالمی طاقتوں نے اپنے جنگی مفادات کے تحت مذہبی جذبات کو ایک مخصوص سمت دی۔

‏بعد ازاں، جب یہ جنگی اہداف حاصل ہو گئے اور عالمی قوتیں خطے سے پیچھے ہٹ گئیں، تو وہی بیانیہ مسلمانوں کے بعض مذہبی حلقوں میں ایک مستقل اور مقدس نظریے کی صورت اختیار کر گیا، جسے شدت پسندی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
‏اس پر مزید یہ کہ بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے رخ نے اس رجحان کو مزید تقویت دی۔ خواہ وہ 9/11 کے بعد “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے نام پر اختیار کی گئی پالیسیاں ہوں، یا حالیہ غزہ جنگ کے تناظر میں مذہبی حوالوں کے ذریعے ریاستی تشدد اور سول آبادیوں کی تباہی کو جواز دینے کی کوششیں۔ یہ سب عوامل بھی کسی نہ کسی سطح پر شدت پسند بیانیوں کو مضبوط کرنے کا باعث بنتے رہے ہیں۔
‏ایسے حالات میں آج سب سے بڑا چیلنج ہمیں بطور مسلمان انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر درپیش ہے: یعنی مذہب کی بنیاد پر دوسرے مسالک اور مذاہب کے خلاف نفرت پر مبنی تفہیم کو سنجیدگی سے چیلنج کرنا۔ یعنی مذہب کو ریاست اور سیاست سے دور کرکے فرد کی روحانیت اور اخلاقیات تک محدود رکھنا ہے۔ اس مسئلے کا مؤثر حل کسی بیرونی طاقت یا بیانیے میں نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانکنے، سوچ کی اصلاح، رویوں کی درستگی اور اسلام کی اخلاقی و انسانی روح کو ازسرِنو تشکیل دینے میں مضمر ہے۔ اور یہ کام مسلمانوں نے خود کرنا ہے۔ استعمار کے اپنے مفادات اور ترجیحات ہوتی ہیں، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ مگر اصل اور تکلیف دہ سوال یہ ہے کہ ہمارا مذہب اور ہم خود کس طرح اتنی آسانی سے استعمال ہوتے چلے گئے؟ اور یہ کہ کیوں ہمارے بعض مذہبی علماء اور گروہ دہائیاں گزر جانے کے باوجود اسی انتہاپسندانہ راستے پر قائم و دائم ہیں میری رائے میں اسلام کے نام پر پیش کیے جانے والے ہر انتہاپسند بیانیے کو چیلنج کرنا محض ایک فکری انتخاب نہیں بلکہ ہم مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔



Friday, November 21, 2025

مرنے کے بعد کا منظر

 وہ اس دنیا سے تو رحلت کر گیا، مگر اگلے جہان پہنچتے ہی ایک عجیب سا مانوس سلسلہ شروع ہوگیا۔

ایک فرشتہ اسے خوبصورت، سرسبز باغوں کی طرف لے چلا۔ وہ ابھی منظر سے لطف اٹھا ہی رہا تھا کہ دوسرا فرشتہ نمودار ہوا۔ اس نے مرحوم کا بازو پکڑا اور راستہ بدل کر اسے اُن مقامات کی طرف دھکیلنے لگا جہاں دور دور تک آگ کے شعلے لپک رہے تھے۔

وہ گھبرا کر بولا:

“یار، زندگی میں بھی اتنا نہیں بھٹکایا گیا جتنا مر کر ہو رہا ہے!”

پھر اُس نے جھنجھلا کر کہا:

“بھئی، تم مجھے مار تو چکے ہو… اب مزید کیا مارو گے جو آگ دکھا کر ڈرا رہے ہو؟”

یہ بات منہ سے نکلی ہی تھی کہ اچانک تیسرے گروہ کے کئی فرشتے سامنے آگئے۔

انہوں نے قافلے کا کنٹرول سنبھالا اور سفر کا رخ دوبارہ ایک دلکش وادی کی طرف موڑ دیا۔

لیکن سکون زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا - کچھ ہی دیر بعد چوتھے گروہ کے فرشتے کود پڑے، اور اسے تیسرے لشکر سے چھین کر ایک بار پھر دہکتی آگ کی سمت گھسیٹنے لگے۔

آخر وہ تنگ آ کر چیخ اٹھا:

“یہاں بھی وہی چکر! دنیا میں بھی مولوی، پنڈت اور پادری میرے ایک ہی عمل پر اپنی اپنی کتابوں سے الگ الگ فیصلہ سناتے تھے-

کوئی مجھے جنتی کہتا تھا، کوئی جہنمی!

بتاؤ، تم فرشتے ہو یا مذہبی فتوؤں کے ایجنٹ؟”

وہ اسی الجھن میں کچھ مزید کہنے کو تھا کہ

اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ 

 

مزید ظلم یہ ہوا کہ بابا جی نے خواب کی ایسی تعبیر نکالی کہ رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔

فرمایا: “پُتر! جنت، جہنم… اور فتوؤں کا یہ سفر مرنے کے بعد بھی تیرا پیچھا نہیں چھوڑے گا😏

 

اسجد بخاری 

جمعہ 21 نومبر 2025



 

فیض کا عشق حقیقی

فیض کا عشقِ حقیقی (اسجد بخاری - فروری ٢٠٢٦)   اسلامی تصوف کی فکری روایت میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی دو ایسے بنیادی تصورات ہیں جو صوفیانہ ش...