Tuesday, March 24, 2026

فیض کا عشق حقیقی

فیض کا عشقِ حقیقی

(اسجد بخاری - فروری ٢٠٢٦)

 

اسلامی تصوف کی فکری روایت میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی دو ایسے بنیادی تصورات ہیں جو صوفیانہ شعور کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ عشقِ مجازی سے مراد کسی انسان سے شدید لگاؤ اور والہانہ محبت ہے۔ اگرچہ یہ عشق ظاہری اور فانی ہوتا ہے، مگر صوفیانہ فکر میں اسے محض رد نہیں کیا جاتا۔ اس کے برعکس، یہی عشق ایک ایسے ابتدائی زینے کی حیثیت رکھتا ہے جو انسان کو اپنے خالق سے بے لوث، بے غرض اور ہمہ گیر محبت یعنی عشقِ حقیقی تک لے جاتا ہے، بشرطیکہ یہ محبت خود غرضی اور نفسانی خواہشات کی قید میں نہ ہو۔

صوفیانہ شعور میں جب عشق اپنی معراج کو پہنچتا ہے تو ذات، انا اور ذاتی خواہشات تحلیل ہونے لگتی ہیں، اور بندہ اپنے محبوبِ حقیقی میں فنا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عشقِ مجازی کو تربیتِ قلب کا پہلا مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔

وارث شاہ ہیر میں اسی حقیقت کی طرف یوں اشارہ کرتے ہیں:

 "وارث شاہ حقیقت دی لین لذت
پہلے چکھ کے لون مجازیاں دا"

 

اسی طرح بلھے شاہ مجازی سے حقیقی کے سفر کو انا کی شکست سے مشروط کرتے ہیں:

 

"بلھیا عشق اوہناں نوں لگدا اے،

جنہاں نوں آپ اپنی ذات دا بھرم ٹُٹّے"

 

(عشق اُسی کو نصیب ہوتا ہے جس کی اپنی انا ٹوٹ جائے)

 

وحدت الوجود کے تناظر میں عشقِ حقیقی کی ایک بلیغ اور سادہ تعبیر ہمیں خواجہ غلام فرید کی سرائیکی کافی میں ملتی ہے۔ وہ عشق کو کسی خارجی شے کے بجائے اپنی ہی ذات میں یوں جذب کر لیتے ہیں:

 

"میڈا عشق وی توں

میڈا یار وی توں

میڈا دین وی توں

ایمان وی توں

میڈا جسم وی توں

میڈی روح وی توں

میڈا قلب وی توں

جِند جان وی توں

میڈا ذکر وی توں

میڈا فکر وی توں

میڈا سانول مِٹھڑا شام سَلونا

من موہن جاناں وی توں

میڈا درم وی توں

میڈا بھرم وی توں"

 

یہ صوفیانہ روایت ہمیں مجازی سے حقیقی کے سفر کا ایک واضح نقشہ فراہم کرتی ہے۔ اب اگر ہم اسی تصور کو جدید اردو شاعری، بالخصوص فیض احمد فیض کے فکری و شعری تناظر میں دیکھیں، تو عشق ایک نئی جہت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔

فیض احمد فیض کا شعری سفر مجموعہ نقشِ فریادیسے شروع ہوتا ہے، جس کی ابتدا ان معروف اشعار سے ہوتی ہے:

 

"رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے

جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم

جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے"

 

یہ خالصتاً عشقِ مجازی کا نہایت لطیف اور جمالیاتی اظہار ہے۔ مگر فیض کے ہاں عشق ایک جگہ ٹھہر نہیں جاتا۔ معتبر سوانحی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایم اے او کالج امرتسر میں تدریسی فرائض کے دوران جب انہیں ذاتی سطح پر عشق کی ناکامی کا سامنا ہوا، تو یہ حادثہ ان کے باطن میں ایک بڑی فکری تبدیلی کا سبب بنا۔

ڈاکٹر ایوب مرزا اپنی تصنیف ہم کہ ٹھہرے اجنبی(صفحہ 378) میں اس واقعے کو یوں بیان کرتے ہیں:

 

"ڈاکٹر رشید جہاں کی نگاہ دوررس نے اس تنہا لیکچرار کو بھانپ لیا۔ پوچھا معاملہ کیا ہے؟ کسی کام کاج میں تیرا جی نہیں لگتا۔ جب فیض نے جواب میں تکلف کیا تو بلاتکلف بولیں: محبت میں ناکامی! اور فیض نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے مشورہ دیا، یہ حادثہ تمہاری ذات واحد کا بہت بڑا حادثہ ہوسکتا ہے۔ مگر یہ اتنا بڑا بھی نہیں کہ زندگی بے معنی ہوجائے۔  انہوں نے فیض کو ایک کتاب مطالعہ کے لئے دی اور پھر ملنے کے لئے کہا۔ بقول فیض انہوں نے اس کتاب کو پڑھا اور ان پر چودہ طبق روشن ہوچکے تھے۔ یہ کتاب تھی :

Communist Manifesto 

اور پھر فیض پکار اُٹھا:

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

نیا فیض جنم لے چکا تھا۔ اب فیض نئی منزلوں کا مسافر بن گیا۔ اور پھر :

 

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

جو کوئے یار سے نکلے، تو سوُےدار چلے"

 

یہ وہ موڑ تھا جہاں فیض کا عشق فرد سے نکل کر اجتماعیت کی طرف بڑھنے لگا۔ اب ان کا عشقِ مجازی بھی بدل گیا اور عشقِ حقیقی بھی خالق سے مخلوق، اور فرد سے سماج تک پھیل گیا۔

امرتسر کا تدریسی ماحول، ساتھی اساتذہ، مزدور سیاست اور سامراجی و سرمایہ دارانہ نظام پر کھلی بحث، فیض کے لیے نظریے اور شاعری کے اتصال کا نقطۂ آغاز بنی۔ ڈاکٹر سلیم اختر کے مطابق، فیض کی شاعری میں جو اجتماعی دکھنمایاں ہے، وہ اسی ماحول سے براہِ راست اخذ شدہ طبقاتی شعور کا نتیجہ ہے۔

یہاں فیض صوفیانہ روایت سے ایک نیا مکالمہ قائم کرتے ہیں۔ اشفاق احمد المعروف تلقین شاہ نے فیض کے مجموعہ کلام شامِ شہرِ یاراںکے پیش لفظ میں فیض کو ملامتی صوفی قرار دیا۔ مگر فیض خدا کو جنگلوں، غاروں یا صحراؤں میں تلاش نہیں کرتے؛ وہ اسے اس کی تخلیق یعنی انسان کے دکھ ، محرومی اور جدوجہد میں پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

فیض کے نزدیک انسان کے دکھ کا مداوا، اس پر مسلط جابرانہ نظام کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے وہ سماجی اور معاشی انصاف پر مبنی نظام کو اپنا عشقِ مجازی بناتے ہیں، جو دراصل عشقِ حقیقی یعنی انسان کی فلاح تک پہنچنے کا زینہ ہے۔

 

 نظم رقیب سے میں وہ اپنے روایتی عشقِ مجازی سے اجتماعی شعور کی طرف یوں قدم بڑھاتے ہیں:

 

"ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے

اتنے احسان کہ گنواں تو گنوا نہ سکوں

ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے

جُز ترے اور کو سمجھاوں تو سمجھا نہ سکوں

عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی

یاس و حرمان کے، دکھ درد کے معنی سیکھے

زیردستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا

سرد آہوں کے، رُخ درد کے معنی سیکھے

جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت

شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے

آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ

اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے"

 

اور پھر وہ اس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں وہ اعلان کرتے ہیں:

 

"ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے

جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے

اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ"

 

 

فیض کا عشق ناانصافی، جبر اور طبقاتی استحصال کے گہرے مشاہدے سے جنم لیتا ہے، مگر وہ کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں عشقِ حقیقی غزل کی جمالیات میں بھی سانس لیتا ہے:

 

"کس قدر ہوگا یہاں مہرو وفا کا ماتم

ہم تری یاد سے جس روز اُتر جائیں گے

فیض آتے ہیں رہ عشق میں جو سخت مقام

آنے والوں سے کہو ہم تو گذر جائیں گے"

 

"تری امید تیرا انتظار جب سے ہے

نہ شب کو دن سے شکایت، نہ دن کو شب سے ہے

کہاں گۓ شب فرقت کے جاگنے والے

ستارہ سحری ہم کلام کب سے ہے"  

 

فیض وہ عاشق ہے جو امید کا دامن نہیں چھوڑتا اور یاد رکھتا ہے کہ:

 

"بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے

فروغ گلشن و صوت ہزار کا موسم"

 

لیکن1971ء کے سانحۂ مشرقی پاکستان نے فیض کے اس عشق کو شدید زخم دیے۔ فوجی آپریشن، قتل و غارت اور انسانی المیے نے انہیں اندر تک ہلا دیا، اور وہ یوں چیخ اٹھے:

 

"سجے تو کیسے سجے قتل عام کا میلہ

کسے لبھائے گا میرے لہو کا واویلا

مرے نزار بدن میں لہو ھی کتنا ھے

چراغ ھو کوئی روشن نہ کوئی جام بھرے

نہ اس سے آگ ھی بھڑکے نہ اس سے پیاس بجھے

مرے فگار بدن میں لہو ھی کتنا ھے

مگر وہ زہر ہلاہل بھرا ھے نس نس میں

جسے بھی چھیدو ھر اک بوند قہر افعی ھے

ھر اک کشید ھے صدیوں کے درد وحسرت کی

ھر اک میں مہر بلب غیض و غم کی گرمی ھے

حذر کرو مرے تن سے یہ سم کا دریا ھے

حذر کرو کہ مرا تن وہ چوب صحرا ھے

جسے جلاؤ تو صحن چمن میں دہکیں گے

بجائے سرو و سمن میری ہڈیوں کے ببول

اسے بکھیرا تو دشت و دمن میں بکھرے گی

بجائے مشک صبا میری جان زار کی دھول

حذر کرو کہ مرا دل لہو کا پیاسا ھے"

 

سانحۂ مشرقی پاکستان ایسا تھا کہ تین برس بعد بھی، جب وہ ڈھاکہ گئے تو واپسی پر بول اٹھے:

 

"تھے بہت بےدرد لمحے ختم درد عشق کے

تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

ہم کہ ٹہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد"

 

اسی طرح امریکہ میں روزن برگ جوڑے کی پھانسی پر لکھی گئی نظم “ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے”، فیض کے دوسرے دور کے عشقِ مجازی، یعنی اشتراکی نظام کی ایک لازوال مثال ہے۔ یہ نظم قربانی، وفا اور انسان دوستی کی ایک بلند ترین شعری علامت ہے۔ فیض صاحب ان دنوں راولپنڈی سازش کیس کے الزام میں منٹگمری جیل میں قید تھے۔ جیل میں روزن برگ جوڑے کے خطوط پر مشتمل ایک کتاب ان تک پہنچی۔ وہ اس سانحے سے بے حد متاثر ہوئے کیونکہ ان دونوں میاں بیوی کو کمیونسٹ ہونے کی سزا دی گئی تھی ۔  

 

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم

دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے

تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم

نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے

تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی

تیری زلفوں کی مستی برستی رہی

تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی

جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم

ہم چلے آئے، لائے جہاں تک قدم

لب پہ حرفِ غزل، دل میں قندیل غم

اپنا غم تھا گواہی تیرے حسن کی

دیکھ قائم رہے اِس گواہی پہ ہم

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی

تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی

کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے

ہِجر کی قتل گاہوں سے سب جا مِلے

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے عَلم

اور نکلیں گے عشّاق کے قافلے

جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم

مختصر کر چلے درد کے فاصلے

کر چلے جِن کی خاطر جہاں گیر ہم

جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

 

فیض نے اپنی کتاب ’مہ و سال آشنائی‘ میں لکھا کہ ’ماسکو کی ایک محفل مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ سجاد ظہیر (بنے) کے بڑے کمرے میں سب لوگ جمع تھے۔ مجھ سے شعر سنانے کی فرمائش ہوئی تو میں نے روزن برگ والی نظم ’ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘ کچھ تمہید کے ساتھ سنائی اور اس کے بعد جب اس کا انگریزی ترجمہ ختم ہوا تو ایک صاحب جو کونے میں خاموش بیٹھے تھے، اچانک اٹھے اور آنکھوں پر رومال رکھ کر روتے ہوئے باہر چلے گئے۔‘

’کسی کی زبانی معلوم ہوا کہ یہ امریکہ کے مشہور ترقی پسند سیاسی مبصر اور مصنف البرٹ کاہن ہیں جو روزن برگ کے ذاتی دوست تھے اور آج کل اس جوڑے کے یتیم بچے انھی کی تحویل میں ہیں۔

 

بالآخر، فیض کا عشقِ حقیقی انسان ہے۔ اس انسان کی آزادی، وقار اور خوش حالی ہی ان کا آخری خواب ہے۔ اسی لیے ان کی شاعری دعا بھی ہے، احتجاج بھی، اور امید بھی۔

اختتام پران کے پنجابی گیت کی چند بند جس میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں- اور aفیض کے پورے فکری سفر کو ایک جمالیاتی اکائی میں سمیٹ دیتا ہے:

 

"درد نہ دسّاں گُھلدی جاوا

راز نہ کھولاں مُکدی جاواں

کِس نوں دل دے داغ وکھاواں

کِس در اگّے جھولی ڈھاواں

وے مَیں کِس دا دامن کھسا

کِدھرے نہ پیندیاں دسّاں

وے پردیسیا تیریاں

شام اُڈیکاں فجر اُڈیکاں

آکھیں تے ساری عمر اڈیکاں

آنڈ گوانڈی دیوے بلدے
ربّا ساڈا چانن گھلدے
جگ وَسدائے میں وی وساں
کدھرے نہ پیندیاں دسّاں
وے پردیسیا تیریاں"

 

 


 

 

No comments:

Post a Comment

فیض کا عشق حقیقی

فیض کا عشقِ حقیقی (اسجد بخاری - فروری ٢٠٢٦)   اسلامی تصوف کی فکری روایت میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی دو ایسے بنیادی تصورات ہیں جو صوفیانہ ش...