Tuesday, December 16, 2025

مذہب، سیاست اور انتہاپسندی: ایک خود احتسابی اور نئی تعبیر کی ضرورت

شدت پسند گروہوں کے پاس محض مذہبی شناخت نہیں ہوتی بلکہ ایک منظم مذہبی نظریاتی فریم ورک بھی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم جس پُرآشوب عہد میں زندہ ہیں، اس میں انتہاپسندی کو بارہا مذہبی تعبیرات کے ذریعے اخلاقی اور فکری جواز فراہم کیا جاتا رہا ہے۔ اس رجحان کی نمایاں جڑیں افغان جہاد کے پس منظر میں ملتی ہیں، جہاں سرد جنگ کے دوران عالمی طاقتوں نے اپنے جنگی مفادات کے تحت مذہبی جذبات کو ایک مخصوص سمت دی۔

‏بعد ازاں، جب یہ جنگی اہداف حاصل ہو گئے اور عالمی قوتیں خطے سے پیچھے ہٹ گئیں، تو وہی بیانیہ مسلمانوں کے بعض مذہبی حلقوں میں ایک مستقل اور مقدس نظریے کی صورت اختیار کر گیا، جسے شدت پسندی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
‏اس پر مزید یہ کہ بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے رخ نے اس رجحان کو مزید تقویت دی۔ خواہ وہ 9/11 کے بعد “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے نام پر اختیار کی گئی پالیسیاں ہوں، یا حالیہ غزہ جنگ کے تناظر میں مذہبی حوالوں کے ذریعے ریاستی تشدد اور سول آبادیوں کی تباہی کو جواز دینے کی کوششیں۔ یہ سب عوامل بھی کسی نہ کسی سطح پر شدت پسند بیانیوں کو مضبوط کرنے کا باعث بنتے رہے ہیں۔
‏ایسے حالات میں آج سب سے بڑا چیلنج ہمیں بطور مسلمان انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر درپیش ہے: یعنی مذہب کی بنیاد پر دوسرے مسالک اور مذاہب کے خلاف نفرت پر مبنی تفہیم کو سنجیدگی سے چیلنج کرنا۔ یعنی مذہب کو ریاست اور سیاست سے دور کرکے فرد کی روحانیت اور اخلاقیات تک محدود رکھنا ہے۔ اس مسئلے کا مؤثر حل کسی بیرونی طاقت یا بیانیے میں نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانکنے، سوچ کی اصلاح، رویوں کی درستگی اور اسلام کی اخلاقی و انسانی روح کو ازسرِنو تشکیل دینے میں مضمر ہے۔ اور یہ کام مسلمانوں نے خود کرنا ہے۔ استعمار کے اپنے مفادات اور ترجیحات ہوتی ہیں، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ مگر اصل اور تکلیف دہ سوال یہ ہے کہ ہمارا مذہب اور ہم خود کس طرح اتنی آسانی سے استعمال ہوتے چلے گئے؟ اور یہ کہ کیوں ہمارے بعض مذہبی علماء اور گروہ دہائیاں گزر جانے کے باوجود اسی انتہاپسندانہ راستے پر قائم و دائم ہیں میری رائے میں اسلام کے نام پر پیش کیے جانے والے ہر انتہاپسند بیانیے کو چیلنج کرنا محض ایک فکری انتخاب نہیں بلکہ ہم مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔



No comments:

Post a Comment

خدا کا وجود - مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان آج کا مباحثہ

خدا کا وجود - مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان آج کا مباحثہ خدا کے وجود پر فلسفے، عقیدے اور منطق کی روشنی میں صدیوں سے بحث ہوتی آ ر...