Friday, January 9, 2026

یہ کیا اُٹھا لائے ہو

 "یہ کیا اُٹھا لائے ہو؟"


یہ کیا اُٹھا لائے ہو؟

یہ کس کو مسیحا بنائے ہو؟

جسے تم نے رہبر کا نام دیا

یہ ظلمت کہاں سے اُٹھا لائے ہو؟


جس خرابات کو تم مہاتما کہتے ہو،

جس دھویں کو تم سائباں سمجھتے ہو،

وہ نفرت کی موسلا دھار ہے

یہ “مہاتما” کیوں دل میں سجائے ہو؟


نہ اس میں خوشبو ہے، نہ چراغِ امید،

نہ درد کی سچائی، نہ آنکھوں کی نمی،

پھر کس دلیل سے سر پر سجائے ہو؟

یہ خرابات کیوں ذہن میں بٹھائے ہو؟


ایک ضدی لہجہ، ایک خالی نعرہ

یہ کس کو مسیحا بنائے ہو؟

ضد کو اصول کا نام دے کر

کس انا کو تخت پر بٹھائے ہو؟


سو پوچھتا ہوں پھر سے،

تہمت پرستی کی یہ گٹھڑی

اب تم ایمان بنائے ہو؟

کیوں اسے سینے سے لگا لائے ہو؟


جو خود کو مرکزِ کائنات سمجھے،

جو اختلاف کو دشمنی جانے،

وہ رہنما نہیں، انا کا قیدی ہے،

یہ سچ تم کیوں نہ جان پائے ہو؟

-----

اسجد بخاری

۹ جنوری ۲۰۲۶

No comments:

Post a Comment

فیض کا عشق حقیقی

فیض کا عشقِ حقیقی (اسجد بخاری - فروری ٢٠٢٦)   اسلامی تصوف کی فکری روایت میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی دو ایسے بنیادی تصورات ہیں جو صوفیانہ ش...