Saturday, December 20, 2025

خدا کا وجود - مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان آج کا مباحثہ

خدا کا وجود - مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان آج کا مباحثہ
خدا کے وجود پر فلسفے، عقیدے اور منطق کی روشنی میں صدیوں سے بحث ہوتی آ رہی ہے اور اس موضوع پر بے شمار اہم کتب اور مکاتبِ فکر موجود ہیں۔ جدید علوم، سماجی ارتقاء اور سائنسی دریافتوں کے تناظر میں اس بحث کا جاری رہنا نہ صرف فکری طور پر مفید ہے بلکہ سننے اور پڑھنے والوں کو مختلف زاویوں سے سوچنے اور مخالف نقطۂ نظر کو برداشت کرنے کی تہذیب بھی سکھاتا ہے۔
تاہم اس پورے مباحثے میں ایک اہم سوال ایسا ہے جس پر مزید سنجیدہ گفتگو کی ضرورت محسوس ہوتی ہے:
اگر ہم خدا کے وجود کو تسلیم کر لیں، تو کیا وہ خدا لازماً کسی مخصوص مذہب کے عقیدے کا خدا ہی ہوگا؟
پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کائنات اور قدرت کے نظام میں جہاں انصاف اور رحم جیسی صفات واضح طور پر ہر جگہ کارفرما نظر نہیں آتیں، کیا یہ اوصاف خالق نے صرف انسانوں کے باہمی تعلق کے لیے متعین کیے ہیں؟
جب خدا کا مذہبی تصور زیرِ بحث آتا ہے تو لازماً اس کے ساتھ عملی زندگی، اخلاقیات اور انسانی رویّوں سے جڑے کئی موضوعات بھی گفتگو کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اس مباحثے کو سننے کے بعد میری رائے میں، مذہبی افراد سے خدا کے وجود پر گفتگو کرتے ہوئے مذہبی عقیدے کے خدا اور عملی زندگی سے اس کے تعلق کو مکمل طور پر بحث سے الگ رکھنا ایک حد تک غیر تسلی بخش محسوس ہوتا ہے۔
حالیہ مباحثے میں مفتی شمائل ندوی صاحب روایتی مباحثے کے اسلوب اور علمی تیاری کے ساتھ شریک ہوئے۔ انہوں نے اپنا موقف مؤثر انداز میں پیش کیا، جس سے وہ ایک مثبت تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ دوسری جانب جاوید اختر صاحب نے ریشنلسٹ زاویے سے گفتگو کی اور بنیادی سوال کو انسان کی عملی زندگی سے جوڑنے کی کوشش کی، جو میرے نزدیک ایک مناسب اور بامعنی طریقہ ہے۔
بہرحال، یہ ایک ایسی بحث ہے جو شاید کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو، اور اگر اسے اسی طرح مہذب، علمی اور احترام کے دائرے میں رہ کر جاری رکھا جائے تو یہ مفید ایک عمل ہے۔
اس موضوع پر میری رائے اس تصور کے زیادہ قریب ہے کہ کائنات کی تخلیق کے تناظر میں خود تخلیق کو ہی خالق سمجھنے سے بھی اس مسئلے کی کچھ گرہیں کھل سکتی ہیں۔ جی ہاں، میرا اشارہ وحدتُ الوجود کے تصور کی طرف ہے-
Link to the debate

https://youtu.be/2eX26jVaR_A?si=bJEAx6hmZ-GcQ1MH
 

Tuesday, December 16, 2025

مذہب، سیاست اور انتہاپسندی: ایک خود احتسابی اور نئی تعبیر کی ضرورت

شدت پسند گروہوں کے پاس محض مذہبی شناخت نہیں ہوتی بلکہ ایک منظم مذہبی نظریاتی فریم ورک بھی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم جس پُرآشوب عہد میں زندہ ہیں، اس میں انتہاپسندی کو بارہا مذہبی تعبیرات کے ذریعے اخلاقی اور فکری جواز فراہم کیا جاتا رہا ہے۔ اس رجحان کی نمایاں جڑیں افغان جہاد کے پس منظر میں ملتی ہیں، جہاں سرد جنگ کے دوران عالمی طاقتوں نے اپنے جنگی مفادات کے تحت مذہبی جذبات کو ایک مخصوص سمت دی۔

‏بعد ازاں، جب یہ جنگی اہداف حاصل ہو گئے اور عالمی قوتیں خطے سے پیچھے ہٹ گئیں، تو وہی بیانیہ مسلمانوں کے بعض مذہبی حلقوں میں ایک مستقل اور مقدس نظریے کی صورت اختیار کر گیا، جسے شدت پسندی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
‏اس پر مزید یہ کہ بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے رخ نے اس رجحان کو مزید تقویت دی۔ خواہ وہ 9/11 کے بعد “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے نام پر اختیار کی گئی پالیسیاں ہوں، یا حالیہ غزہ جنگ کے تناظر میں مذہبی حوالوں کے ذریعے ریاستی تشدد اور سول آبادیوں کی تباہی کو جواز دینے کی کوششیں۔ یہ سب عوامل بھی کسی نہ کسی سطح پر شدت پسند بیانیوں کو مضبوط کرنے کا باعث بنتے رہے ہیں۔
‏ایسے حالات میں آج سب سے بڑا چیلنج ہمیں بطور مسلمان انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر درپیش ہے: یعنی مذہب کی بنیاد پر دوسرے مسالک اور مذاہب کے خلاف نفرت پر مبنی تفہیم کو سنجیدگی سے چیلنج کرنا۔ یعنی مذہب کو ریاست اور سیاست سے دور کرکے فرد کی روحانیت اور اخلاقیات تک محدود رکھنا ہے۔ اس مسئلے کا مؤثر حل کسی بیرونی طاقت یا بیانیے میں نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانکنے، سوچ کی اصلاح، رویوں کی درستگی اور اسلام کی اخلاقی و انسانی روح کو ازسرِنو تشکیل دینے میں مضمر ہے۔ اور یہ کام مسلمانوں نے خود کرنا ہے۔ استعمار کے اپنے مفادات اور ترجیحات ہوتی ہیں، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ مگر اصل اور تکلیف دہ سوال یہ ہے کہ ہمارا مذہب اور ہم خود کس طرح اتنی آسانی سے استعمال ہوتے چلے گئے؟ اور یہ کہ کیوں ہمارے بعض مذہبی علماء اور گروہ دہائیاں گزر جانے کے باوجود اسی انتہاپسندانہ راستے پر قائم و دائم ہیں میری رائے میں اسلام کے نام پر پیش کیے جانے والے ہر انتہاپسند بیانیے کو چیلنج کرنا محض ایک فکری انتخاب نہیں بلکہ ہم مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔



خدا کا وجود - مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان آج کا مباحثہ

خدا کا وجود - مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان آج کا مباحثہ خدا کے وجود پر فلسفے، عقیدے اور منطق کی روشنی میں صدیوں سے بحث ہوتی آ ر...