"یہ کیا اُٹھا لائے ہو؟"
یہ کیا اُٹھا لائے ہو؟
یہ کس کو مسیحا بنائے ہو؟
جسے تم نے رہبر کا نام دیا
یہ ظلمت کہاں سے اُٹھا لائے ہو؟
جس خرابات کو تم مہاتما کہتے ہو،
جس دھویں کو تم سائباں سمجھتے ہو،
وہ نفرت کی موسلا دھار ہے
یہ “مہاتما” کیوں دل میں سجائے ہو؟
نہ اس میں خوشبو ہے، نہ چراغِ امید،
نہ درد کی سچائی، نہ آنکھوں کی نمی،
پھر کس دلیل سے سر پر سجائے ہو؟
یہ خرابات کیوں ذہن میں بٹھائے ہو؟
ایک ضدی لہجہ، ایک خالی نعرہ
یہ کس کو مسیحا بنائے ہو؟
ضد کو اصول کا نام دے کر
کس انا کو تخت پر بٹھائے ہو؟
سو پوچھتا ہوں پھر سے،
تہمت پرستی کی یہ گٹھڑی
اب تم ایمان بنائے ہو؟
کیوں اسے سینے سے لگا لائے ہو؟
جو خود کو مرکزِ کائنات سمجھے،
جو اختلاف کو دشمنی جانے،
وہ رہنما نہیں، انا کا قیدی ہے،
یہ سچ تم کیوں نہ جان پائے ہو؟
-----
اسجد بخاری
۹ جنوری ۲۰۲۶