پاکستان تحریکِ انصاف الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ایک سیاسی جماعت ہے۔ اس کا اپنا منشور ہے، قیادت ہے اور ملک بھر میں ایک بڑی عوامی حمایت بھی موجود ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کسی سیاسی جماعت کی عوامی مقبولیت ہی اسے ایک حقیقی معنوں میں منظم اور مستحکم سیاسی جماعت بنانے کے لیے کافی ہے؟
میرے نزدیک پاکستان تحریکِ انصاف ایک مقبول سیاسی تحریک تو ضرور ہے، لیکن وہ ابھی تک خود کو ایک ایسی منظم، ادارہ جاتی اور جمہوری سیاسی جماعت کے طور پر مستحکم نہیں کر سکی جو اپنی قیادت، تنظیم اور سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے مستقل طور پر کام کر سکے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی تحریک کو سیاسی جماعت کے طور پر منظم نہ ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس کے سیاسی اثرات نہیں ہوتے۔ تحریکیں بعض اوقات فوری نتائج حاصل کر لیتی ہیں، عوامی رائے کو تبدیل کرتی ہیں اور سیاسی نظام پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ لیکن ان کے طویل المدتی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے گرد جمع ہونے والی عوامی حمایت کو کس حد تک ایک مستقل سیاسی اور ادارہ جاتی قوت میں تبدیل کر پاتی ہیں۔
پی ٹی آئی کا بنیادی مسئلہ اس کی مقبولیت نہیں، بلکہ اس مقبولیت کو ایک منظم سیاسی طاقت میں تبدیل کرنے کا ہے۔
پارٹی کے اندر مختلف حلقے اور دھڑے دکھائی دیتے ہیں، جن کے ترجیحات اور مفادات ایک دوسرے سے مختلف یں۔ کہیں سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز کا اثر نمایاں ہے، کہیں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے حلقوں کی ترجیحات اہمیت رکھتی ہیں، کہیں عمران خان کے خاندان سے وابستہ افراد کا کردار زیرِ بحث آتا ہے، اور کہیں پارٹی کے اندر موجود مختلف سیاسی شخصیات اپنے اپنے انداز میں اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
اس صورتِ حال میں اصل سوال یہ ہے کہ پارٹی کے اندر فیصلے کرنے کا باقاعدہ طریقۂ کار کیا ہے؟ اختلافِ رائے کو کس طرح سنا جاتا ہے؟ قیادت اور کارکنوں کے درمیان رابطے کا نظام کتنا مؤثر ہے؟ اور مشکل سیاسی حالات میں فیصلے کون کرتا ہے، کس بنیاد پر کرتا ہے اور ان فیصلوں کی ذمہ داری کون قبول کرتا ہے؟
ایک مضبوط سیاسی جماعت میں مختلف آرا اور دھڑوں کا ہونا غیر معمولی بات نہیں۔ اصل فرق یہ ہوتا ہے کہ وہاں اختلافات کو جماعتی نظم، داخلی جمہوریت اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کے ذریعے سنبھالا جاتا ہے۔ اگر تمام سیاسی فیصلوں کا مرکز ایک ہی شخصیت ہو اور اس شخصیت کے گرد موجود حلقے ہی پارٹی کی سمت متعین کریں تو تنظیمی استحکام پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
پی ٹی آئی میں سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر جیسی شخصیات بھی موجود ہیں، جو قانونی اور سیاسی معاملات میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ تاہم کسی فرد کی قابلیت اور سیاسی اہمیت اپنی جگہ، جبکہ پارٹی کے اندر مستقل اثر و رسوخ، عوامی نمائندگی اور تنظیمی اختیار حاصل کرنا ایک الگ معاملہ ہے۔ اگر کسی رہنما کو پارٹی کے اندر اپنے مؤقف کو مؤثر بنانے کے لیے مضبوط تنظیمی بنیاد اور واضح اختیار حاصل نہ ہو تو محض قابلیت جماعت کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔
اس تمام صورتِ حال کا سب سے اہم پہلو عمران خان کی شخصیت اور قیادت کا کردار ہے۔
عمران خان نے پی ٹی آئی کو عوامی سطح پر مقبول بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت، بیانیے اور سیاسی جدوجہد نے لاکھوں لوگوں کو اس جماعت سے وابستہ کیا۔ لیکن میرے نزدیک ان کی قیادت کا ایک بنیادی تضاد یہ ہے کہ انہوں نے پارٹی کو مقبول تو بنایا، مگر اس مقبولیت کو اپنی ذات سے آگے بڑھا کر ایک خودمختار اور مضبوط ادارے میں تبدیل کرنے کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔
ایک سیاسی رہنما کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ کتنے لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہیں، بلکہ اس سے بھی کہ وہ اپنے بعد یا اپنی غیر موجودگی میں کام کرنے والی کتنی مضبوط تنظیم، قیادت اور سیاسی روایت چھوڑ کر جاتا ہے۔
اسی طرح سیاست صرف احتجاج، مزاحمت اور مقبول بیانیے کا نام نہیں۔ سیاست مذاکرات، حکمتِ عملی، مفاہمت، طاقت کے توازن کو سمجھنے اور دستیاب مواقع سے اجتماعی فائدہ اٹھانے کا نام بھی ہے۔ بعض اوقات مذاکرات کے ذریعے محدود کامیابی حاصل کرکے اسے آگے بڑھانا، ہر معاملے کو فیصلہ کن معرکے میں تبدیل کرنے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
اگر کوئی سیاسی قیادت ہر مرحلے پر اپنے مطالبات کو اس انداز میں پیش کرے کہ سمجھوتے یا مذاکرات کی گنجائش کم ہوتی جائے، تو اس کے نتیجے میں سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کے بجائے دستیاب مواقع بھی ضائع ہو سکتے ہیں۔ پھر جب مخالف فریق اپنی شرائط منوا لے تو تحریک دوبارہ مزاحمت کا اعلان کرتی ہے۔ یوں ایک ایسا سلسلہ پیدا ہو جاتا ہے جس میں سیاسی قوت موجود ہونے کے باوجود اسے پائیدار سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنا مشکل رہتا ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ مزاحمت ہونی چاہیے یا مذاکرات۔ جمہوری سیاست میں دونوں کی اپنی جگہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کب مزاحمت کرنی ہے، کب مذاکرات کرنے ہیں اور کس موقع پر حاصل ہونے والی کامیابی کو مستقبل کی پیش رفت کی بنیاد بنانا ہے؟
عوامی مقبولیت کسی بھی سیاسی جماعت کا ایک بڑا سرمایہ ہوتی ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ مضبوط تنظیم، واضح فیصلہ سازی، مؤثر قیادت اور مستقل سیاسی حکمتِ عملی موجود نہ ہو تو یہ سرمایہ اپنی پوری قوت کے ساتھ استعمال نہیں ہو پاتا۔ محض جلسوں، نعروں، سوشل میڈیا کی سرگرمیوں اور ایک مقبول رہنما کے گرد جمع ہونے والے ہجوم سے ایک پائیدار سیاسی ادارہ تشکیل نہیں پاتا۔
میرے نزدیک پی ٹی آئی کے مستقبل کا بنیادی سوال بھی یہی ہے: کیا یہ جماعت عمران خان کی شخصیت اور ان کے سیاسی بیانیے سے آگے بڑھ کر ایک ایسا ادارہ بن سکے گی جس میں اجتماعی قیادت، داخلی جمہوریت، تنظیمی نظم اور سیاسی حکمتِ عملی کو مستقل حیثیت حاصل ہو؟
اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کی موجودہ عوامی حمایت طویل المدتی سیاسی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن اگر جماعت کی شناخت، فیصلے اور سیاسی سمت بدستور ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتے رہے اور تنظیمی مسائل حل نہ ہوئے تو اس کے لیے اپنی مقبولیت کو دیرپا سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنا مشکل رہے گا۔
تاریخ میں شخصیات تحریکیں شروع کرتی ہیں، لیکن تحریکوں کو پائیدار سیاسی اداروں میں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط تنظیم، اجتماعی قیادت اور ادارہ جاتی سوچ درکار ہوتی ہے۔
بالآخر، وقت ہی بتائے گا کہ پاکستان تحریکِ انصاف ایک شخص کے گرد گھومنے والی مقبول تحریک سے آگے بڑھ کر ایک مستحکم سیاسی جماعت بن پاتی ہے یا نہیں۔ تاہم ایک بات واضح ہے: کسی بھی سیاسی جماعت کی اصل طاقت صرف اس کے قائد کی مقبولیت نہیں، بلکہ اس کی تنظیم، اس کے فیصلوں کا معیار اور اس کی ادارہ جاتی پختگی بھی ہوتی ہے۔
No comments:
Post a Comment